خالق کائنات نے جہاں اس فرش ارضی کو پہاڑوں ،ندی نالوں،گنگناتے جھرنوں اور سبز پوش وادیوں سے سجایا وہاں آسمان ارضی کو بھی ٹمٹماتے چراغوں سے حسن بخشا اور جب چشم انسانی اس خوبصور ت نظارے سے لطف اندوز ہونے کے لئے سوئے گردوں جاتی ہے تواس سے آسمان کی وسعتوں میں پھیلی ستاروں کی یہ دنیا اپنے حسن کا خراج وصول کئے بغیر نہیں رہتی اور جیسا کہ یہ ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ اللہ رب العزت نے کوئی بھی چیز بے مقصد یا بے معنی پیدا نہیں کی تو پھر یہ کس طرح ممکن ہے کہ اتنی بڑی کائنات کے یہ لا تعداد روشن چراغ اپنے ہونے کا کوئی مقصد نہ رکھتے ہیں اور آج کی اس زیر نظر ویڈیو میں یہی ہمارا موضوع بھی ہے جس میں ہم اپنے ناظرین کو بتانے کی کوشش کریں گے کہ دستیاب معلومات کے مطابق اس بوڑھے آسمانکے ان مکینوں کی زندگی کے کون کون سے مقاصد سے خالق کائنات نے ہم کو آگاہ کرنا مناسب سمجھالیکن اس سے پہلے ہماری اپنے نئے آنے والے ساتھیوں سے درخواست ہے کہ وہ پہلے چینل کو سبسکرائب کر کے ساتھ موجود گھنٹی کی علامت کو بھی دبا دیں۔ احباب ذی وقار۔جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ قدیم زمانے کا انسان اپنی منزلوں کا پتہ لگانے کے لئے ستاروں سے مدد لیا کرتا تھاگویا قدرت نے ان چھوٹے چھوٹے قمقموں کو سفر میں انسانی راہنمائی کا منصب بھی سونپا اس کے علاوہ سورہء ملک میں اللہ تعالیٰ کے ایک ارشاد کا مفہوم ہے کہ ہم نے آسمان دنیا کو ستاروں سے سجایا اور ہم ان کے ذریعے شیاطین کو دفعہ کرتے ہیں جن کے لئے المناک عذاب تیار ہے ،ایک معتبر روایت کے مطابق گروہ شیاطین یعنی جنوں کے گروہ آسمان کا حال معلوم کرنے کے لئے وہاں تک رسائی کی کوششیں کیا کرتے تھے جن کو روکنے کے لئے ان ستاروں کو ان کی مار کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے،اللہ رب االعزت کا ارشاد ہے کہ کوئی نہیں جو میرے علم کا احاطہ کر سکے مگر جتنا میں چاہوں ستاروں کی دنیا پر اگر غور و فکر کیا جائے تو جدید سائنس کے مطابق ان کی تعداد کے بارے میں حتمی طور پر تو ممکن نہیں البتہ تمثیلاً بتایا جاتا ہے کہ ان کی تعداد دنیا کے تمام سواحل سمندر پر پھیلے ہوئے ریت کے ذرات سے بھی کہیں زیادہ ہے جبکہ جدید سائنسی تحقیق کے مطابق ان میں سے بعض جسم ایسے ہیں جو زمین کے برابر یا اس سے کم وجود کے حامل ہیں لیکن بہت سے ستارے ایسے بھی ہیں جن کے ایک کونے میں ہماری ہزاروں بلکہ لاکھوں زمینیں سما سکتی ہیں اور اگر ان حقائق کی روشنی میں اس کائنات کی وسعتوں کا اندازہ لگانے کی کوشش کی جائے تو ظاہر ہے عقل انسانی پہلے قدم پر ہی سبحان اللہ کہنے پر مجبور ہو جاتی ہے ، ناظرین محترم۔ حضرت علامہ اقبال فرماتے ہیں کہ     قرآن میں ہو غوطہ زن اے مردِ مسلمان اللہ کرے تجھ کو عطا جدتِ کردار یعنی یہ اس کتاب حکمت کا اعجاز ہی ہے کہ اگر حالت ایمان میں کوئی اس کی گہرائیوں میں اترنے کی کوشش کرے تووہ امامت زمانہ کے گُر جان لیتا ہے رب کائنات سورہء واقعہ میں فرماتے ہیں جس کا مفہوم ہے کہ قسم ہے ستاروں کے ڈوبنے کے مقام کی اور اگر تم سمجھ سکو تو یہ بہت ہی بڑی قسم ہے جبکہ آج سائنس نے قدرت کے اس راز کی نقاب کشائی کرتے ہوئے ہمیں بتایا ہے کہ ستارے ٹوٹ کر بلیک ہول میں گرتے ہیں اور پھر اس کی وسعتوں میں گم ہو جاتے ہیں۔
معزز خواتین وحضرات۔اس موڑ پر رک کر ذرا ستاروں کے وجوداور ان کی تعداد پر غور کرنے کے بعد اب اس بلیک ہول کی بے کناریوں پر غور کریں کہ اس کا حجم کتنا ہو گا جس میں سورج اور اس سے بھی بڑے وجود سما جائیں اور اس کے بعد ان کے وجود کا احساس تک ختم ہو جائے مگر بات یہاں پر بھی ختم نہیں ہوتی بلکہ اکیسویں صدی کی سائنس کی روشنی میں اس کائنات کی وسعتوں میں ایسے لا تعداد بلیک ہول موجود ہیں جو اس کائنات کے کئی آوارہ گرد مادے کے ٹکڑوں کے آخری مسکن کا کام دے رہے ہیں. میرے قابل صد احترم صاحبان عقل و خرد اب ذرا اس دائرۃالبروج کا اختصاراً تذکرہ بھی ہو جائے جس کا ذکر بھی اس خالق کائنات نے فرمایا جو کہ قطعی طور پر وحدہُ لا شریک ہے جس کا مطالعہ کرنے کے بعد ماہرین فلکیات اور ستارہ شناس اپنے اپنے اندازوں کے مطابق ستاروں کے اس دنیا اور انسانی زندگی پر ان کے اثرات کے بارے میں محو سخن رہتے ہیں،اگرچہ اسلامی عقائد کے مطابق علم نجوم کے اندازوں کی صحت کی تصدیق کو کفر سے تشبیع دی گئی ہے لیکن اگر اس میں سے غائب اور مستقبل بینی کو نکال دیا جائے توستاروں کا علم بھی قدرت الہیٰ کی تصدیق اور اس کی حمد و ثناء سے آزاد نہیں رہ سکتا۔ معزز خواتین و حضرات یہ بات ہر شک و شبے سے بالا تر ہے کہ اللہ کی کوئی بھی تخلیق ایسی نہیں جو نہ صرف اپنے اندر مقصدیت نہیں رکھتی بلکہ اس کائنات کے ذرے سے لے کر بڑے بڑے اجرام فلکی تک زبان حال سے اس کی شہادت دے رہے ہیں کسی نے سچ ہی کہا تھا کہ جو خانہء لا شعور میں مسکرا رہا ہے وہی خداہے۔

Stars And Shayateen

Blog |

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>