Titanic Ki Kahani

معزز ناظرین!
انسان اپنے خالق کی وہ تخلیق ہے جس کو اشرف المخلوقات کا مقام دیا گیا یعنی یہ اس کائنات کی تمام مخلوقات جن میں جانور،جن اور فرشتے تک شامل ہیں ان سب پر اس کو فوقیت دے کراس کے زمینی مسکن پر بھیجا گیا اور پھر انبیاء کے ذریعے اس کو اس کی تخلیق کے مقصد سے بھی آگاہ کیا گیا تا کہ یہ اپنے فرائض منصبی کو بہتر طور پر پورا کر سکے اور کتب تواریخ انسانی اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ اس نے اپنے منصب کے مطابق اس دنیا میں آکر نہ صرف اس کی تعمیر کی بلکہ ابتدائے آفرینش سے لے کر لمحہء موجود تک وہ اب تک تسخیر کائنات کے سفر پر رواں دواں ہے اور اس سفر میں اس نے اب تک کتنے معرکے سر کئے یہ ممکن نہیں کہ ان کی تفصیل اس مختصر ترین وقت میں الفاظ میں قید کی جا سکے البتہ ہم کہہ سکتے ہیں کہ اس نے اپنی جہد مسلسل کے زور پر نہ صرف ہواؤں کا سینہ چاک کیا بلکہ سمندروں کی گہرایاں ناپنے میں بھی کوئی مخلوق اس کی ثانی نہیں ،حضرت انسان جس کو اس کے خالق نے زندگی کے دو مادی اور روحانی پہلوؤں کے ساتھ اس دنیا میں بھیجا کے روحانی پہلو کو اگر اس سے جدا کر کے دیکھا جائے تو اس کی مادی ترقی زبان حال سے اس کے اشرف المخلوقات ہونے کی گواہی دے رہی ہے لیکن آج کی اس زیر نظر ویڈیو میں ہماری کوشش ہو گی کہ ہم اپنے ناظرین کو اس کے بحری سفر کی انتہا یعنی ٹائی ٹینک نامی اس بحری جہاز کی تباہی کے بارے میں اختصاراً بتا سکیں جس کو بنا نے والوں کا یہ دعوی تھا کہ یہ جہاز خواہ کیسے ہی حالات کیوں نہ ہوں وہ ہر مشکل کو شکست دینے کے سامان سے لیس کر دیا گیا ہے اور پھر جب 1912 میں برطانوی حکومت نے اس کو اپنے اپنے دعوے کے مطابق پورے اعتماد کے ساتھ سفر پر روانہ کیا تواس وقت اس میں دنیا کی کئی معزز شخصیات کے ساتھ ساتھ بہت سے ایسے لوگ بھی سوار تھے جو نیو یارک کے اس مسافر کے ہم سفر بن کر امریکہ میں اپنی نئی زندگی شروع کرنے کے خواہشمند تھے جن کے تمام خواب سمندر کے اس پانی کی نذر ہو گئے جس کے بارے میں اس کے بانے والے آئر لینڈ کے سائنسدانوں کا کہنا تھا کہ سمندرکی کوئی موج بھی اس طاقتور جہاز کے سامنے نہیں ٹھر سکتی لیکن اس سفر کی تفصیلات میں جانے سے قبل ہم اپنے نئے آنے والے ساتھیوں سے درخواست کریں گے کہ وہ پہلے چینل کو سبسکرائب کر کے ساتھ موجود گھنٹی کے بٹن کو بھی دبا دیں تا کہ ہماری آنے والی ویڈیوز بھی تسلسل کے ساتھ آپ تک پہنچتی رہیں۔
معزز خواتین و حضرات۔ آئر لینڈ میں تیار ہونے وا لے اس برطانوی بحری جہازپر اس وقت جو لاگت آئی وہ آج کے حساب سے144.5 ملین پاؤنڈ بنتی ہے جوکہ پاکستانی روپے کے مطابق اربوں تک پہنچ سکتی ہے،وائٹ سٹار لائن کمپنی کی ملکیت اس جہاز کی تیاری کا آغاز 17 ستمبر 1908میں کیا گیا اوراس کی تکمیل تقریباً چار سال کے بعد دو اپریل 1912میں ممکن ہو سکی جبکہ دس اپریل کو اس نے عملے کے افراد سمیت 2224 مسافروں کے ساتھ اپنے سفر کا آغازSouthampton سے کیااور اپنے سفر کے آغاز کے چار دن بعدایک برفانی تودے سے ٹکرا گیا جو کہ اس ناقابل شکست بحری جہاز کے لئے موت کا سامان ثابت ہوا دستیاب معلومات کے مطابق ٹائی ٹینک صرف چار گھنٹوں کے بعد عملے سمیت قریب قریب بائیس سو افراد کے ساتھ سمندر کی گہرائیوں میں دفن ہو گیا اس میں سوار پندرہ سو افراد سمندری مچھلیوں کا رزق بن گئے جبکہ بقیہ افراد کو بچا لیا گیا جنہوں نے زندہ بچ جانے کے بعد مختلف لوگوں کو اس کا آنکھوں دیکھا حال سناتے ہوئے بتایا کہ جہاز اپنی مخصوص رفتار کے ساتھ اپنی منزل یعنی نیو یارک کی طرف رواں دواں تھا کہ اچانک انہیں ایک شدید قسم کا جھٹکا محسوس ہوجس کے بعد اسکے مسافروں میں ہل چل مچ گئی ہم سب یہ محسوس کر رہے تھے کہ ہم لمحہ بہ لمحہ گہرائی میں اترتے جا رہے ہیں اور اس وقت ہر کسی کو اپنی جان بچانے کی پڑی ہوئی تھی۔
ناظرین گرامی۔عینی شاہدین اور اس حادثے کے شکار ہونے والے وہ افراد جن کی جانیں کسی طرح بھی بچ سکی تھیں کے مطابق اس وقت قیامت کا سماں برپا تھا اور ہم یہ محسوس کر رہے تھے کہ اس وقت سوائے سمندر کے پانی میں چھلانگ لگانے کے اور کوئی صورت باقی نہیں اور ہم نے دیکھا کہ ہمارے ساتھ سیکڑوں لوگوں نے خود کو سمندر کی لہروں کے حوالے کیا جبکہ بہت سے لوگ کشتیوں کے ذریعے بھی کھلے سمندر میں اتر گئے جن میں سے کئی اپنی جان بچانے میں کامیاب ہو گئے جبکہ بہت سے بد نصیب موت کا رزق بن گئے۔
معزز ناظرین ۔آئر لینڈ میں تیار کیا جانے والا یہ جہاز جو کہ ایک برطانوی کی ملکیت تھا کو اپنے دور کا سب سے بڑا اور محفوظ ترین جہاز مانا جاتا تھا جس میں سوئمنگ پولز،سکوائش کورٹ،لائبریری،مساج سنٹرز اور تفریح کے دیگرکئی مواقع بھی قائم کئے گئے تھے بلکہ اگر اس میں موجود آسائشوں کے تناطر میں اس کو دیکھا جائے تو ٹائی ٹینک ایک بحری جہاز کی بجائے اعلیٰ درجے کا کوئی فائیو سٹار ہوٹل محسوس ہوتا تھا اس جہاز میں ایمرجینسی صورت حال سے نمٹنے کے لئے بتیس جان بچانے والی کشتیاں بھی تھیں لیکن بعد ازاں ان کی تعداد کو کم کر کے بیس کر دیا گیا،تاریخ کے اس سب سے بڑے بحری جہاز جس کی لمبائی 883 فٹ تھی کو تین منازل یعنی کلاسز میں تقسیم کیا گیا تھا جن کو فرسٹ،سیکنڈ اور تھرڈ کلاس سے موسوم کیا جاتا تھااس کے ابتدائی ڈیزائن اور تیکنیکی ضرورت کے مطابق اس کی تین چمنیاں بنائی گئی تھیں لیکن اس کے مالک کی رائے کے مطابق چونکہ اس سے اس کا حسن متاثر ہو رہا تھا سو اس میں ایک چوتھی چمنی کا بھی اضافہ کیاگیااور اس میں کوئی شک نہیں کہ انجینئرز کے نزدیک یہ جہاز غیر معمولی طور پر محفوظ تھا لیکن شاید قدرت کو اس کے مالک کا یہ دعویٰ کہ یہ جہاز کبھی بھی ڈوب نہیں سکتاپسند نہ آیا اور یہ اپنے پہلے سفر میں ہی ان تمام دعووں کو باطل کرتے ہوئے پندرہ سو انسانوں کو بھی اپنے ساتھ موت کی وادی میں لے کر اتر گیا،
ناظرین ۔اگرچہ یہ جہاز جس کے محفوظ ہونے کا ڈھنڈورہ پوری دنیا میں پیٹا گیا تھا کی کارکردگی کا اگر چہ ا س کے باقاعدہ سفر سے پہلے سمندر میں ٹیسٹ بھی لیا گیا اور اس نے پوری کامیابی کے ساتھ وہ ٹیسٹ پاس بھی کیا جس کے بعد بھر پور اعتماد کے ساتھ اس کو سمندر میں اتار دیا گیا اور یہ اس کی زندگی کا پہلا اور آخری سفر ثابت ہوا کہا جاتا ہے کہ دوران سفر اس کی دور بینیں اپنی سمت سے ہٹ گئی تھیں جس کی وجہ سے اس کا کپتان سمت کا صحیح تعین نہ کر سکا اور یہ برف کے ایک بہت بڑے تودے سے ٹکرا کر تباہ ہو گیا،کہا جاتا ہے کہ یہ جہاز جب اپنے پہلے اور آخری سفر پر روانہ ہوا توموسم انتہائی پر سکون تھا اور دور دور تک کسی سمندری طوفان کی آمد کے کوئی آثار نہیں تھے لیکن یہ جب اپنے چار دن کا سفر مکمل کر چکا تو اچانک اٹلانٹک اوشن کے درجہء حرارت میں انتہائی کمی واقع ہو گئی یہ ایسا موسم تھا جب سمندر میں برفیلی چٹانیں بننے کے امکانات بہت حد تک بڑھ جاتے ہیں تاریخی گواہیوں کے مطابق ایک اور بحری جہاز نے اس کے عملے کو ایک نہیں بلکہ چھ دفعہ اس ناسازگار موسم کی اطلاع بھی دی لیکن اس کا عملہ بھی اپنے مالک کی طرح اسی گمان میں رہا کہ وہ چونکہ ٹائی ٹینک پر سوار ہیں لہٰذا یہ موسمی تھپیڑے ان کا کچھ نہیں بگا سکتے اور انہوں نے اس وارننگ کو کوئی اہمیت نہ دی بلکہ یہ غیر ذمہ دارانہ بات بھی بعد از تحقیق سامنے آئی کہ اس جہاز کے عملے کو کسی ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کی کوئی تربیت بھی نہیں دی گئی تھی بلکہ یہ حقائق بھی سامنے آئے ہیں کہ اس کے وائر لیس سسٹم کے انچارج نے آخری دفعہ اس موسمی تبدیلی کی اطلاع دینے والے کو ڈانٹ تک پلاتے ہوئے کہا کہ ہمارا وقت ضائع مت کرو یہ کوئی عام جہاز نہیں ہے الغرض موت قریب آ رہی تھی اور ٹائی ٹینک 25 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے اس کی طرف سفر کر رہا تھا جہاز کے کپتان سمتھ کو اس برفانی چٹان کی خبر اس وقت ہوئی جب وہ اس کے انتہائی قریب پہنچ چکا تھا،اگرچہ قیامت کی اس گھڑی میں اس نے جہاز کا رخ تبدیل کرنے کی اپنی سی کوشش ضرور کی لیکن اب وقت گزر چکا تھا اور جہاز پوری قوت کے ساتھ اس برفانی چٹان کے مرکز سے ٹکرایا ایک بڑا دھماکہ ہوا اور اس کے ساتھ ہی جہاز میں تین سو فٹ بڑا شگاف پیدا ہو گیا جس کے بعد اٹلانٹک اوشن کا پانی تیزی سے جہاز کے اندر داخل ہونا شروع ہو گیا یہ صبح صادق کا وقت تھا مسافر ابھی سو رہے تھے کہ سمندر کا پانی ان کے کمروں میں داخل گیا وہ ہربڑا کر اٹھے مگر موت ان کے سروں تک پہنچ چکی تھی ،جہاز کے کپتان نے فوری طور پر امداد کے پیغامات نشر کرنے شروع کر دےئے جہاز میں موجود کشتیوں کو حرکت میں لایا گیا اور سب سے پہلے فرسٹ کلاس کے مسافروں کو ان میں سوار کرایا گیا اور اس طرح فرسٹ کلاس کے 94 فیصد مسافر بچ گئے جبکہ اسی ترتیب کے سا تھ سیکنڈ اور تھرڈ کلاس کے مسافروں کو بھی ان کشتیوں کی مدد سے بچانے کی کوشش کی گئی لیکن افرتفری میں جہاں ان کشتیوں کی مدد سے 1200 افراد کی جان بچائی جا سکتی تھی وہاں صرف 762 لوگوں کی جانیں بچائی جا سکیں اور یوں بحری تاریخ کا یہ سب سے بڑا جہاز سیکڑوں مسافروں سمیت اپنے سفر آخرت پر روانہ ہو گیا

 

Titanic Ki Kahani

Blog |

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>