Siasatdan Aur General

محترم ناظرین۔برصغیر میں عظیم مسلم ریاست سلطنت مغلیہ کے زوال کے بعد جب انگریزوں نے یہاں اپنی حکومت قائم کی تو انہوں نے اپنے پیش رو یعنی مسلمانوں کے ساتھ وہ تضحیک آمیز رویہ اختیار کیا کہ یہ شکست خوردہ قوم دوبارہ ان کے مقابلے میں سر نہ اٹھا سکے جبکہ اس کے ساتھ ساتھ انگریزوں نے ہندوستان کی دوسری بڑی قومیت ہندو کو مسلمانوں کے مقابلے میں اس قدر اہمیت دی کہ داخلی طور پر ہندو مسلمانوں کو اپنے رحم و کرم پر سمجھنے لگے ،سرکاری نوکریاں خاص طور پر انگریزوں اور ہندوؤں کے لئے مختص ہو کر رہ گئیں حتیٰ کہ یہ عالم ہوا کہ ایک دفعہ جب سندر بن ڈپٹی کمشنر کے دفتر میں ایک چپڑاسی کی سیٹ کا اشتہار دیا گیا تو اس کے ساتھ یہ وضاحت بھی تھی کہ صرف ہندو کی تقرری عمل میں لائی جائے۔ایسے ناخوشگوار موسموں میں جب مسلمانوں کی معاشی ،معاشرتی اورحتیٰ کہ مذہبی آزادی تک ہندو اور انگریز کے پاس گروی پڑ چکی تو چند صاحبان دل نے قوم کو اس گرداب سے نکالنے کے لئے راستے سوچنا شروع کئے جن میں اگر سر سید احمد خان کا نام نامی سر فہرست لکھا جائے تو نا مناسب نہ ہو گا جن کی ابتدائی کوششوں سے آہستہ آہستہ مسلمان جدید تعلیم کی طرف راغب ہوکر اپنے لئے ایک علیحدہ وطن حاصل کرنے کی تحریک چلانے کے قابل ہوئے جس کو آج ہم تحریک پاکستان کہتے ہیں ،آج کی اس ویڈیو میں ہماری کوشش ہو گی کہ ہم پاکستان کے حصول کے مقاصد اور پھر اس کے ساتھ اپنو ں کے سلوک پر اختصاراً بحث کر سکیں

معزز خواتین و حضرات۔فطرت کے قوانین کے مطابق جب کوئی قوم یا فرد حالات کے جبر سے نجات حاصل کرنے کی عملی کوشش کا آغاز کرتا ہے تو تبھی قدرت کی طرف سے بھی امداد کا نزول شروع ہوتا ہے جیسا کہ علامہ فرماتے ہیں کہ
فضائے بدر پیدا کر فرشتے تیری نصرت کو اتر سکتے ہیں گردوں سے قطار اندر قطار اب بھی
سو فطرت کے اصول کو مد نظر رکھتے ہوئے ہمارے آباؤ اجداد نے اپنے خدا کے سامنے سر جھکاتے ہوئے یہ وعدہ کیا کہ اگر وہ انہیں ایک ایسی مملکت سے نواز دے جس کے شب و روز ان کے بس میں ہوں تو وہ اس میں اپنے اللہ کا نظام نافذ کریں گے سو یہ دعا قبول ہوئی اور ستر کی دہائی میں اللہ رب العزت نے قوم مسلم کو وہ ٹیم د ی جس میں حضر ت قائد اعظم، علامہ اقبال،مولانا محمد علی جوہر اور عبد ا لرب نشتر جیسی شخصیات شامل تھیں جنہوں نے آگے چل کر تاریخ کا یہ معجزہ کر دکھایا اوردنیا کا نقشہ تبدیل ہو کر رہ گیا،یہ ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ بیک وقت ہندو اور انگریزوں کے خلاف دو محاذوں پرکامیابی سے لڑی جانے والی یہ جنگ تاریخ کا ایک انوکھا واقعہ تھا جس کو ابتداء میں دیوانے کا خواب کہا گیا لیکن کون جانتا تھا کہ اس تحریک کے پیچھے مسلمانوں کا اپنے اللہ سے کیا ہوا وہ وعدہ تھا جس کی تکمیل کے لئے فطرت انہیں یہ موقع فراہم کر رہی تھی۔
ناظرین عالی وقار۔ اس ملک کے حصول کے لئے کی گئی قربانیوں کا اگر یہاں ذکر کیا جائے تو ان مناظر کا تصور کر کے کئی سینے چاک ہو جائیں جب اس کی نمو کے لئے نوجوان بچیاں ،معصوم پھول،اور بوڑھے و جوان مرد و زن اس کی بنیادوں میں لہو بھر رہے تھے،پاکستان تاریخ انسانی کی سب سے بڑی قربانی کے بعد وجود میں آگیا اور اب اس کی تعمیر کا مرحلہ در پیش تھا قائد اعظم گورنر جنرل اور لیاقت علی خان وزیر اعطم کے منصب کے اہل ٹھرے لیکن تقدیر ایک دفعہ پھراپنا کھیل کھیلنے پر تلی ہوئی تھی جہاں قائد کی بے وقت رحلت نے قوم کی کمر توڑ دی وہاں شہید ملت کے قتل نے رہی سہی کسر بھی نکال دی اور اب ملک طالع آزماؤں کے نرغے میں آچکا تھا ،دنوں اور مہینوں بعد حکومتوں کی تبدیلی خلافت عباسیہ کے عہد کی یاد دلا رہی تھی کہ اس موقع پر نہرو نے ہمارے غیر سنجیدہ اور مفاد پرست سیاستدانوں کے کردار پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ میں نے اب تک اتنی دھوتیاں تبدیل نہیں کیں جتنی کہ پاکستان حکومتیں بدل چکا ہے،سیاست دانوں کے بعد اس کھیل کو فوجی آمروں نے بھی خوب کھیلا ،سکندر مرزا کے بعد ایوبی آمریت بھی اگرچہ آج کی جمہوریت سے بہتر تسلیم کی جا رہی ہے جس کے عہد اقتدار میں پاکستان کو تربیلا اور منگلا ڈیم دینے کے علاوہ دارلخلافہ کو کراچی سے تبدیل کر کے اسلام آبادلانا بھی ا سی کے نامہء اعمال کا حصہ ہے لیکن اس کے فوراً بعداگلے فوجی آمر یحیےٰ خان جس کو اپنے لباس تک کا شعور نہ تھا نے اپنی ناہلی کی بدولت پاکستان کا ایک بازو ہی کٹوا دیا،ذوالفقار علی بھٹو PPP کے سیاسی پلیٹ فارم سے اٹھے اوربنگلہ دیش کی حتمی منظوری کافیصلہ انہیں کے نامہء اعمال کاحصہ بنا .
اس کے بعد پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ کا دور آیاجو کہ اپنی اپنی سیاسی دکانیں چمکانے میں مصروف عمل رھے البتہ مسلم لیگ کی کارکردگی پیپلزپارٹی کے مقابلے میں قدرے بھتررھی۔جبکہ اب ایک تیسری قوتPTI کے چےئر مین عمران خان اب نئے پاکستان کی تخلیق کا نعرہ بلند کر رہے ہیں لیکن انکے قول و افعال بھی یہی گواہی دے رہے ہیں کہ انہیں بھی اپنے آباؤ اجداد کا وہ نعرہ شاید بھول چکا ہے جو کہ اس ملک کی حقیقی اساس تھا،
البتہ آج بھی اگر قوم خدا سے کئے ہوئے اس وعدے جس کے مطابق ہمیں یہاں اللہ کا نظام نافذ کرنا تھا کو سامنے رکھ کر اب بھی کسی دینی شخصیات کو موقع دے تو شاید تنزلی کا یہ سفر رک سکے۔

 

Siasatdan Aur General

Blog |

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>