Mal’aun Geert Wilders And Islam

معزز ناظرین سپریڈ دی اسلام
بیسویں صدی کے وسط میں جب غازی علم الدین شہید نے ایک گستاخ رسول ﷺ کو جہنم کا رزق بنانے کا اعزاز حاصل کیا اور یہ خبر علامہ اقبال ؒ مرحوم تک پہنچی توآپ نے بڑے ہی کرب کے ساتھ پنجابی کا یہ جملہ کہا کہ اسیں سوچدے ہی رہ گئے تے ترکھانڑاں دا منڈا بازی لے گیا اور پھر اس کے بعد مسلمانوں کا ایک وفد حضرت علامہ کے پاس گیا اور پوچھا کہ کسی گستاخ رسول کے قتل کے بدلے میں اگر کوئی مسلمان اپنی جان سے جائے تو کیا یہ شہادت ہو گی اور اسے شہادت کے کونسے منصب پر فائز سمجھنا چاےئے جس پر حکیم الامت کا جواب تھا کہ اس بد بخت نے پیغمبرانہ وقار کے قتل کی ایک قبیح کوشش کی تھی سو میرے نزدیک اس کا قتل نہ صرف عین باعث ثواب ہے بلکہ یہ اعزاز رکھنے والا اگر جان سے جائے تووہ شہادت کے اعلٰی مقام پر فائز ہوتا ہے کیونکہ اس نے اپنی زندگی پیغمبرانہ وقار کی نذر کی ہے ،محترم ناظرین اس حساس موضوع پر لب کشائی سے پہلے حضرت اقبال کے اس شعر کا حوالہ دینا مناسب ہو گا جس میں آپ فرماتے ہیں کہ ستیزہ کار رہا ہے ازل سے تا امروز چراغ مصطفوی سے شرار بو لہبی
اور ہم دیکھتے ہیں کہ اس نوع کے افکار غلیظ کے حامل افراد ہر دور میں ابھر کر سامنے آتے رہے جن میں سلمان رشدی ملعون کے علاوہ اور بھی کئی ایسے نام ہیں لیکن ماضی قریب میں یورپی معاشروں سے ایک اوررسم بد کا آغاز ہوا جس کے زیر اثر نبیء صادق ﷺ کے گستاخانہ خاکوں کا سلسلہ سوشل میڈیا کے ذریعے چلا کر مسلمانوں کے قلوب کو چھلنی کرنے کی ایک بے ہودہ کوشش کی گئی جس کی وجہ سے ماضی قریب میں پاکستان میں بھی یو ٹیوب پر پابندی عائد رہی لیکن باطل بھلا ان کوششوں سے کہاں رکتا ہے ،سو گذشتہ دنوں ہالینڈ میں ایک بد بخت نے جناب رسالت مآب ﷺ کے گستاخانہ خاکوں کی نمائش کا اہتمام کرنے کی کوشش کی جس کو ہالینڈ کی حکومت نے کسی وقتی مصلحت کی بناء پر موخر کر دیا اور اب یہ بے ہودگی ہالینڈ کی پارلیمنٹ میں حکومتی سر پرستی میں پوری کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے لیکن اس کی تفصیلات میں جانے سے قبل ہم اپنے نئے آنے والے ساتھیوں سے درخواست کریں گے کہ وہ پہلے چینل کو سبسکرائب کر کے ساتھ موجود گھنٹی کی علامت کو بھی دبا دیں۔
ناظرین محترم۔ اس غلیظ مقصد کے حصول کے لئے گیرٹ وولڈرز جو کہ اس نا پاک مہم کی روح رواں ہے نے دنیا بھر سے گستاخانہ خاکوں کے حصول کے لئے ایک ای میل ایڈریس بھی دے دیا ہے تا کہ تمام ابلیس زادوں کو اس گندے کھیل کا حصہ بنایا جا سکے ،اس نمائش میں ڈچ شہریوں کے علاوہ فریڈم پار ٹی کے اراکین کو بھی دعوت دی گئی ہے تا کہ وہ بھی اس میں کھل کر اپنے خبث باطن کا مظاہرہ کر سکیں ،
ناظرین۔ دشمنان اسلام کی جانب سے کی جانے والی اس ابلیسی کوشش کے انعقاد کے دن کا اگرچہ ابھی تک کوئی تعین نہیں کیا گیا لیکن اس کے لئے جو جیوری بنائی جائے گی اس کے سر براہ کا نام سامنے آ چکا ہے جو کہ ماضی میں امریکہ میں ہونے والے ایسے ہی ایک مقابلے میں اول انعام حاصل کر چکا ہے گویا یہ بات اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ ملعون کا خبث باطن جج کے انتخاب سے ہی ظاہر ہے اس مقابلے میں حصہ لینے والے گروہ شیاطین کو ان کی کاوشوں کے مطابق انعامات سے بھی نوازا جائے گا تا کہ اس شیطانی کھیل کی مزید حوصلہ افزائی ہو سکے۔
محترم خواتین و حضرات۔ اس موڑ پر کیا دشمن سے اس کی طرف سے کی گئی دشمنی کا شکوہ کوئی معنی رکھتا ہے جس کا منصب ہی دشمنی کرنا ہوتا ہے ہر گز نہیں بلکہ یہاں پر ہمیں اپنے گریبانوں میں جھانکنے کی ضرورت ہے کہ نبی ﷺ کے دیوانے کس قدر بے جان ہو چکے ہیں کہ وہ جن سے یعنی نبی ﷺ سے محبت کا دم اپنے ماں باپ سے بھی بڑھ کر بھرتے ہیں وہ اندر سے کس قدر کھوکھلے ہو چکے ہیں کہ اغیار ان کی رگ جاں کو کچلنے کی کوشش میں ذرا بھی ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہ کریں ،قابل صد افسوس مقام ہے کہ دنیا بھر میں آج ایک ارب سے زائد مسلمان سانس لے رہے ہیں لیکن مسلم دشمن قوتیں نہ صرف ان کا وجود تسلیم کرنے پر رضامند نہیں بلکہ ان کے اس نا م نہاد عشق جس کے بارے میں علامہ اقبال نے کہا تھا کہ
نام کے دونوں مسلماں میں بھی ہوں اور تو بھی ہے کے مصداق اپنے اپنے مفادات کی جنگ میں یہود و نصاریٰ کو اپنا دوست بنانے کی کوششوں میں مصروف ہیں جن کے بارے میں اللہ رب العزت نے واضح اور صاف الفاظ میں فرما دیا کہ یہ کبھی بھی تمہارے دوست نہیں بلکہ آپس میں ایک دوسرے کے ہمدرد اور دوست ہیں ،اے کاش ہم اس دنیا کی زندگی کی لذتوں اور مفادات پر اپنے پیارے نبیﷺ کی محبت کو ترجیح دے سکتے جو کہ دنیا اور آخرت دونوں میں کامیابی کی ضمانت ہے بقول اقبال ؒ
کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں لیکن
زباں سے کہہ بھی دیا لا الا تو کیا حاصل دل و نگاہ مسلماں نہیں تو کچھ بھی نہیں
لیکن قوم مسلم شاید اس حقیقت کو بھول چکی ہے کہ ماضی میں بھی جب کسی قوم نے اپنے اللہ اور رسول سے بغاوت کی کوشش کی تو خدائے واحد اس سے بہتر قوم کو اقتدار میں لے آیاکیا اب بھی امت ایسے ہی کسی خدائی فیصلے کی منتظر ہے چونکہ
تو نہ مٹ جائے گا ایران کے مٹ جانے سے نشہء مے کو تعلق نہیں پیمانے سے
ہے عیاں یورش تا تار کے افسانے سے پاسباں مل گئے کعبے کو صنم خانے سے

Mal’aun Geert Wilders And Islam

Blog |

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>