حضرت علیؓ کو رسول اللہﷺ نے چقندر کھانے کا حکم کیوں دیا تھا؟

دور حاضر میں قبض ،ہیپاٹائٹس،ڈپریشن اور کینسر ایسے امراض کا علاج کرنا ہو تو قدرت الٰہی سے یہ خصوصیات ہمیں چقندر میں مل جائیں گی جو معالجہ کی زبردست قوت رکھتی ہے. چقندر میں مینگانیز اور بیٹین کثیر تعداد میں موجود ہوتا ہے جس سے اعصابی نظام کا فعل درست ہوجاتا ہے.چقندر کو لال رنگ دینے والے اجزاء بیٹالین اور ویٹامن سی قوت مدافعت میں اضافہ کرتے اور بیماریوں سے بچنے میں کردار ادا کرتے ہیں.

تحقیق کے مطابق یہ کینسر سیلز کو جنم لینے سے بھی روکتے ہیں.چقندر ایک معروف سبزی ہے جسے عربی میں سلق اور انگریزی میں کہا جاتا ہے.اللہ کے رسول ﷺ نے چقندر کو صحت کے انتہائی مفید قرار دیا اور صحابہ اکرام ؓ کے طبی فوائد کی بنا پر اسکو شوق سے کھاتے . ترمذی میں حضرت ام منذرؓکے حوالے سے ایک حدیث ہے ایک بار رسول اللہﷺ حضرت ام منذرؓ کے گھر تشریف لے گئے. حضرت علیؓ آپﷺ کے ہمراہ تھے. اس وقت گھر میں کھجور کے خوشے لٹکے ہوئے تھے. سرکار دوعالم ﷺ نے ان کھجوروں میں سے تناول فرمایا تو حضرت علیؓ بھی کھانے لگے اس پر آپﷺ نے ارشاد فرمایا ”اے علی! تم کمزور ہو اس لئے تم نہ کھاؤ“. ام منذرؓ چقندر کھانے لگیں تو آنحضورﷺ نے حضرت علیؓ سے فرمایا کہ اس میں سے کھاؤ کیونکہ یہ تمہارے لئے مفید ہیں.

محدثین بتاتے ہیں کہ ان دنوں حضرت علیؓ کی آنکھیں دکھ رہی تھیں اور دکھتی آنکھوں پر کھجور کھانا مضر ہے. اس لئے آپﷺ نے حضرت علیؓ کو منع فرمایا اور جب آپﷺ کے سامنے چقندر پیش کئے گئے تو آپﷺ نے حضرت علیؓ سے فرمایا کہ یہ کھاؤ کیونکہ یہ تمہارے لئے مفید ہیں اور تمہاری ناطاقتی کو یہ دور کر دے گا. اس حدیث کی روشنی میں دوباتیں معلوم ہوتی ہیں کہ پرہیز کرنا سنت ہے اور یہ بھی معلوم ہوا کہ چقندر کھانے سے کمزوری دور ہوتی ہے.بخاری شریف میں بھی چقندر کا ذکر ملتا ہے

حضرت علیؓ کو رسول اللہﷺ نے چقندر کھانے کا حکم کیوں دیا تھا؟

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>